Mind blowing facts about human behavior./نفسیاتی حقائق

0
psychological facts mind blowing


روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے مختلف قسم کے رویوں سے
 متعلق انسانی نفسیات کیا کہتی ہے۔


اگر آپ چلتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھنے کے عادی ہیں تو آپ گھر سے ملنے والے اعتماد کی کمی کا شکار ہیں۔
اگر آپ چھوٹی چھوٹی اشیاء سے چمٹے رہتے ہیں تو آپ بچپن سے عدم توجہ کا شکار ہیں۔
اگر آپ کو معمولی معمولی سی باتوں پر غصہ آتا ہے تو آپ محبت کی کمی کا شکار ہیں،اور محبت کے متلاشی ہیں۔
اگر آپ اس کے بارے میں بات کرتے ہیں جس سے کبھی آپ پیار کرتے تھے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اب بھی اس سے پیار کرتے ہیں۔
اگر آپ بیٹھے بیٹھے ہاتھ پاؤں ہلاتے رہتے ہیں تو آپ ذہنی انتشار کا شکار ہیں۔
اگر آپ سیدھی لائن میں بآسانی نہیں چل سکتے تو یقین کیجیے آپ طلسماتی خرابی کا شکار ہیں۔
اگر ٹانگیں پیٹ کے ساتھ چمٹا کر سونا آپ کی عادت ہے تو آپ بچپن سےہی خوف اور عدم توجہ کا شکار رہے ہیں۔
اگر آپ ناک میں انگلی ڈالنے کے عادی ہیں تو آپ کسی نفسیاتی الجھن کا شکار ہیں۔
اگر آپ کا بچہ افق یا آسمان پر نظر جمائے رکھتا ہے تو یقین کیجیے وہ رومانی دماغ اور گہری سوچ کا مالک ہے۔
اگر آپ زیادہ دیر تک سوتے رہتے ہیں تو آپ اعصابی کمزوری میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
جو لوگ بہترین مشورہ دیتے ہیں وہ عام طور پر سب سے زیادہ مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔
جو لوگ پر بہت اچھے ہوتے ہیں وہ اندر سے اتنے ہی زخمی ہوتے ہیں۔
جو لوگ دیر تک جاگتے ہیں وہ زیادہ تخلیقی ذہین اور زندگی کے فیصلے میں بہتر ہوتے ہیں۔
جو لوگ اپنے کام کے دوران دوسروں کی مداخلت پسند نہیں کرتے وہ زیادہ اچھے ورکر ثابت ہوتے ہیں۔
جو لوگ بہت جلدی آپ کے ساتھ دوستی کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہ اکثر آپ کو دھوکا دیتے ہیں۔
جو شخص سب کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے وہ اکثر تنہا رہ جاتا ہے۔
 جو بچے جلدی بولنا شروع کر دیتے ہیں ان کی یادداشت بہت مضبوط ہوتی ہے۔
جب آپ مسکراتے ہیں تو آپ کی توانائی کئی گناہ زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
جب کوئی آپ کا نام پکارے اور آپ فوراً جواب دیں یا سن لیں تو یہ صحت مند دماغ کی علامت ہے۔
جب آپ کسی سے ہاتھ ملاتے ہیں تو اگر وہ شخص آپ کا ہاتھ فوراً نہیں چھوڑتا تو سمجھ لیجئے کہ آپ ایک بہت پر اعتماد شخص سے مل رہے ہیں۔
جن لوگوں کی سونگنے کی حس بہت اچھی اور تیز ہوتی ہے ان کا دماغ بھی تیز ہوتا ہے۔
 آپ کا ذہن ویسا ہی کام کرتا ہے جیسا کہ آرڈر وصول کرتا ہے۔
آپ کا سفر بہت ہلکا اور آسان ہو جائے گا اگر آپ اپنے ماضی کو اپنے ساتھ نہیں رکھیں گے۔
آپ عادتاً جو سوچتے ہیں ظاہراً وہی بنتے چلے جاتے ہیں۔
 عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک بہت اچھے انسان کو اس کی فیملی وہ ویلیو نہیں دیتی جو دوسرے لوگ دیتے ہیں۔
شام پانچ سے سات بجے کے درمیان آپ کا دماغ زیادہ ایکٹیو ہو جاتا ہے۔
سفر دماغی صحت کو بڑھاتا ہے دل کے دورے ڈپریشن کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے۔
 مختصر ایک یا دو لفظوں میں جواب دینے والے لوگ عموماً زیادہ ہوتے ہیں۔
 رونے والے لوگ اکثر نہ رونے والے لوگوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔
 خواتین عام پر بھاری آواز والے مردوں کو ترجیح دیتی ہیں کیونکہ وہ زیادہ پر اعتماد اور جارحانہ نظر آتے ہیں۔
 تجربہ کار لوگوں کی تجاویز کو ضرور سنیں کیونکہ وہ اپنی ناکامی کی وجوہات بھی جانتے ہیں۔
 خود غرض لوگوں کی دنیا اپنی ذات تک محدود ہوتی ہے آپ ان کے لیے کچھ بھی کر لیں اگلے دن انہیں یاد تک نہیں رہتا۔
 رات کو نیند نہ آنے کا مطلب ہے کہ آپ کسی کے خواب میں جاگ رہے ہیں۔
بعض اوقات حسد آپ کے دماغ کا طریقہ ہوتا ہے جو آپ کو دکھاتا ہے کہ آپ کسی کی کتنی پرواہ کرتے ہیں۔
کبھی بھی کسی کے ساتھ زیادہ پیار یا دیکھ بھال کا اظہار نہ کریں کیونکہ یہ انسانی رجحان ہے کہ وہ ہمیشہ مفت کی چیز کو سمجھتا ہے۔
 انسان جتنا ہوشیار ہوتا ہے اتنا ہی تیزی سے سوچتا ہے اور اس کی لکھاوٹ اتنی ہی سست ہوتی ہے۔
 زیادہ دیر تنہا رہنا آپ کی صحت کے لیے اتنا ہی برا ہے جتنا کے دن میں پندرہ سیگریٹ پینا۔
بہت سے نوجوان جو نو سے آٹھ گھنٹے سے کم سوتے ہیں وہ چڑچڑے پن اور یہاں تک کہ ڈپریشن کے شکار ہوتے ہیں۔
اکثر بھول جانا دراصل اعلیٰ ذہانت کی علامت ہے۔
 اپنے آپ سے بات کرنے سے آپ کا موڈ بہتر ہوسکتا ہے آپ کی ذہانت میں اور خود اعتمادی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
 جب آپ کا کوئی جاننے والا آپ کو نیند میں نظر آتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس شخص نے سونے سے پہلے آپ کے بارے سوچا ہوگا۔
 جب آپ کو کسی ایسے شخص کی طرف سے نظر انداز کیا جاتا ہے جس کی توجہ آپ کیلئے سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے تو آپ کے دماغ میں ردعمل جسمانی درد کی طرح ہوگا۔
جزباتی لوگوں میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ طاقت ہوتی ہے کیونکہ وہ ہر چیز جزبات سے جوڑتے ہیں۔
جو لوگ خوش ہوتے ہیں وہ دنیا کو اسی طرح دیکھتے ہیں جس طرح وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔
اور جو لوگ اداس ہوتے ہیں وہ دنیا کو اسی طرح دیکھتے جیسے یہ حقیقت میں ہے۔






Tags

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)